بجٹ 26-2025 میں تنخواہ داروں کیلئے ریلیف کا اعلان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں تنخواہ داروں کےلیے ریلیف کا اعلان کیا ہے، پچاس ہزار روپے تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔
51 ہزار سے ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ پر ایک فیصد ٹیکس ہوگا، ایک لاکھ روپے سے ایک لاکھ 83 ہزار تک ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دی گئی۔
ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے دو لاکھ 66 ہزار ماہانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 23 فیصد کر دی گئی۔
وزیرخزانہ نے اس موقع پر کہا کہ 6 لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کر دی گئی۔
آپ کی تنخواہ پر اب کتنا ٹیکس کٹے گا؟ خود کیلکولیٹ کریں۔
انھوں نے کہا کہ 22 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے11 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس 25 سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
فنانس بل کے مطابق 22 لاکھ سے زیادہ اور 32 لاکھ روپے سے کم آمدن پر 22 لاکھ سے اوپر رقم پر1 لاکھ 16ہزار فکس ٹیکس ہوگا۔




