چین کی اعلیٰ ترین عدالت نے کینیڈین شہری کی سزائے موت کالعدم کردی
کراچی (نیوز ڈیسک) چین کی اعلیٰ ترین عدالت نے جمعہ کے روز منشیات اسمگلنگ کے جرم میں سزا یافتہ ایک کینیڈین شہری کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔ اس کیس میں یہ اچانک موڑ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یہ معاملہ برسوں سے بیجنگ اور اوٹاوا کے درمیان سفارتی تناؤ کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ رابرٹ لائیڈ شیلنبرگ کا کیس ان چند واقعات میں سے ایک تھا جن میں کینیڈین شہریوں کو چین میں حراست میں لیا گیا، جسے کینیڈا کی حکومت نے ’یرغمالی سفارت کاری‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ شیلنبرگ کو پہلے 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن 2019 میں ہونے والی دوبارہ سماعت میں انہیں سزائے موت دے دی گئی۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ چینی ایگزیکٹو، مینگ وانژو کی کینیڈا میں گرفتاری کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا تھا۔
Load/Hide Comments



