امریکا، ڈیڑھ سالہ بچی کی جان لیوا بیماری کے باوجود امیگریشن حراستی مرکز واپسی
کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا میں ایک مقدمے کے مطابق ڈیڑھ سالہ بچی کی جان لیوا بیماری کے باوجود امیگریشن حراستی مرکز واپسی، تجویز کردہ دوائیں اور غذائی سپلیمنٹس فراہم نہیں کی گئیں، ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن طریقۂ کار پر شدید تنقید، برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیکساس کی وفاقی عدالت میں دائر ایک مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ امریکی امیگریشن حکام نے 18 ماہ کی بچی امیلیا کو جان لیوا سانس کی بیماری کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ حراستی مرکز بھیج دیا اور اسے تجویز کردہ دوائیں اور غذائی سپلیمنٹس فراہم نہیں کیے۔ مقدمے کے مطابق خاندان کو 11 دسمبر کو امیگریشن چیک اِن کے دوران ڈیلی، ٹیکساس کے مرکز میں حراست میں لیا گیا، جہاں خسرہ کی وبا بھی پھیلی ہوئی تھی؛ بچی 18 سے 28 جنوری تک اسپتال میں زیرِ علاج رہی اور اسے کووِڈ-19، آر ایس وی، برونکائٹس اور نمونیا تشخیص ہوا، مگر واپسی پر نیبولائزر، سانس کی دوا اور غذائی مشروبات ضبط کر لیے گئے، جس سے اس کے وزن میں 10 فیصد کمی ہوئی۔



