بات چیت کیلئے تیار ہوں لیکن بندوق کی نوک پر نہیں، سرفراز بگٹی

بات چیت کیلئے تیار ہوں لیکن بندوق کی نوک پر نہیں، سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی : اسکرین گریب
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی : اسکرین گریب 

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ میں بات چیت کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن بندوق کی نوک پر نہیں، میں ریاست کی طرف سے ڈائیلاگ کیلئے تیار ہوں۔

بلوچستان  اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے ریاست کے خلاف منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا گیا، دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، ہم نے کبھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، آئیں الیکشن اصلاحات، فنڈ کی تقسیم پر بات کریں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے جانیں قربان کیں، کسی کو حق نہیں کہ بندوق اٹھائے اور قتل و غارت شروع کر دے،  غیر متوازن ترقی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا، اسمگلنگ کو کس طرح کاروبار کہہ سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ جس سردار کے خلاف زابد ریکی الیکشن لڑ کر آیا، اس پر دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے، جس سردار کے خلاف الیکشن لڑ کر آیا مجھ پر دھاندلی کا الزام لگایا جاتا ہے، فساد اور انتشار چھوڑیں آئیں مذاکرات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقوق ، نوکری، بے روزگاری کو ایشو بناکر دہشت گردی کی جاتی ہے، شہریوں کے حقوق ملنے چاہیے، مگر مسئلے کی تشخیص تو کرنی چاہیے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ  خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں، گوادر میں 3 خواتین، 2 بچوں اور 2 مردوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا، دہشتگرد بلوچ بیانیہ بنا کر ملک توڑنا چاہتے ہیں، دہشت گردی کو محرومی سے کیسے جوڑا جا سکتاہے، دہشت گردی تو تمام صوبوں میں ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افغانستان میں بی ایل اے کی بنیادیں رکھی گئیں، ریاست کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، افغانستان سے سی ون تھرٹی پر کون مرغے  لے کر آیا تھا۔



50% LikesVS
50% Dislikes
February 2026
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

اپنا تبصرہ بھیجیں