بیرک مائننگ نے ریکو ڈک منصوبے پر کام کی رفتار کم کردی

بیرک مائننگ نے ریکو ڈک منصوبے پر کام کی رفتار کم کردی
فائل فوٹو
فائل فوٹو

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات پاکستان پر پڑنے لگے، پاکستان کی ریکو ڈک مائننگ سائٹ پر کام کرنے والی کمپنی بیرک مائننگ کاروپوریشن نے منصوبے پر کام کی رفتار کم کردی ہے۔ 

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بیرک مائننگ کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ پر کام کی رفتار کو سست کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ ملک اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ مزید 12 ماہ تک جاری رکھا جائے گا۔ اس دوران ترقیاتی سرگرمیاں محدود رہیں گی لیکن منصوبہ فعال انتظام کے تحت جاری رہے گا۔

بیرک مائننگ کارپوریشن نے اپنے بیان میں کہا، ’ہم ریکو ڈیک کی طویل مدتی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ریکو ڈک کا شمار دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ کاپر اور سونے کے ذخائر میں ہوتا ہے۔

یہ منصوبہ 2011 سے کمپنی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو کے دور میں بیریک نے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا۔

بیریک کے حصص نیو یارک میں 3.2 فیصد تک گر گئے، تاہم بعد میں کچھ بہتری آئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق منصوبے کی تاخیر سرمایہ کاروں کے لیے کمپنی کے جغرافیائی خطرات کو کم کر سکتی ہے اور مستقبل میں ممکنہ فروخت کے امکانات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

بیرک نے اپنے پاکستانی شراکت داروں اور مقامی ڈویلپرز کو بھی آگاہ کیا ہے کہ منصوبے پر سرگرمیاں فی الحال سست کر دی جائیں گی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں