ٹورنٹو میں علی خامنہ ای کے نقاد کے جم پر فائرنگ، ایرانی نژاد کینیڈین شہری خوفزدہ
رچمنڈ ہل(اے ایف پی)کینیڈامیں ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے نقاد کے جم پر فائرنگ کے بعدایران نژاد کینیڈین شہری خوفزدہ ہیں،بتایا جاتا ہےکہ ایرانی سپریم لیڈرکی شہادت کے بعدجم کے مالک ایران نژاد کینیڈین شہری سالار غلامی نے ٹورنٹو کےنواح میں ایک جشن میں شرکت کی، جس کے بعد یکم مارچ کوکسی نے انکے باکسنگ جم پر فائرنگ کردی ۔اس واقعے نے کینیڈا میں ایرانی حکومتی اہلکاروں، بشمول اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ارکان کی مبینہ موجودگی کی طرف توجہ مبذول کرا دی ہے۔کینیڈا میں مقیم32سالہ غلامی تہران حکومت کا تختہ الٹنے کے حامی ہیں۔ ان کے جم میں ایران کے آخری شاہ کےبیٹے رضا پہلوی کی متعدد تصاویر لگی ہوئی ہیں۔اےایف پی سے گفتگو میں غلامی کا کہنا تھا وہ کینیڈا کومحفوظ سمجھتے تھے لیکن جم پرفائرنگ کے بعد سے پریشان ہیں۔ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے سوال پرانہوں واضح طور پرایران کانام لیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے پس پردہ محرکات سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں ،پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر سیاہ لباس میں ملبوس ایک شخص کو دیکھا گیا جسے مشتبہ قرار دیا گیا ہے، پولیس نے اس جرم کو کسی غیر ملکی حکومت سے جوڑنے کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔فائرنگ کے واقعے کے بعد، غلامی اور دیگر ایرانی نژاد کینیڈین شہریوں نے وفاقی وزیر برائے عوامی تحفظ، گیری آنند سنگری سے ملاقات کی۔ آنند سنگری نےاس ملاقات کی تصدیق کرنے ہوئے ملک سے آئی آر جی سی ارکان کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیا۔ٹورنٹو اور اس کے نواح میں ایرانی تارکین وطن بڑی تعداد میں آباد ہیںاور اس شہر کوازراہ مذاق “تہرانٹو” کہا جاتا ہے۔




