ملٹری کورٹ کا عام امپریشن کیا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی کے استفسار پر سلمان اکرم راجہ  نے جواب دیدیا

ملٹری کورٹ کا عام امپریشن کیا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی کے استفسار پر سلمان اکرم راجہ  نے جواب دیدیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ملٹری کورٹ کا عام امپریشن کیا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ملٹری کورٹ کا امپریشن یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی گیا وہ بچ نہیں سکتا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جاری ہے،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ایک شق کی وجہ سے شہریوں کو فوجی عدالتوں میں لے جایا جا رہا ہے،پورا فریم ورک 1962کے آئین سے مختلف ہو چکا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ جو ترمیم قانون میں ہوئی تھی وہ درست ہوئی،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ 1962اور1973کے آئین کے بعد آج کل حالات بہت مختلف ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ ملٹری کورٹ کا عام امپریشن کیا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ملٹری کورٹ کا امپریشن یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی گیا وہ بچ نہیں سکتا، غداری سے بڑا جرم کوئی نہیں لیکن آرٹیکل 6میں بھی نہیں کہتے کہ اپیل کا حق نہیں، غداری کے مقدمے میں بھی ہائیکورٹ کے تین ججز فیصلہ کرتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قصور سسٹم کا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فیئرٹرائل کی پہلی شرط عدلیہ کی آزادی ہے، وکیل بھی مرضی کا کرنے کا حق ہے،خدانے صفائی میں بولنے کا موقع توابلیس کو بھی دیا تھا،جسٹس مسرت ہلالی نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کلبھوشن آج کل کہاں ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میرے خیال سے کلبھوشن کی اپیل سنی نہیں جا رہی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر دستیاب نہیں،دونوں جج صاحبان نے کراچی جانا ہے،سلمان اکرم راجہ منگل 18فروری کو بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں