کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں جدید لائبریری کا افتتاح

کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں جدید لائبریری کا افتتاح
کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں جدید لائبریری کا افتتاح

کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی میں جدید سہولیات سے آراستہ نئی لائبریری کا افتتاح کردیا گیا۔

جامعہ کے وائس چانسلر اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی (سی آئی ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر سروش لودھی نے مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ 

افتتاحی تقریب میں جامعہ کے ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

نئی لائبریری کو جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جہاں میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے مختلف شعبوں سے متعلق چھ ہزار سے زائد مستند کتب دستیاب ہیں۔ لائبریری میں پُرسکون مطالعے کے لیے مناسب نشستوں، ریفرنس سیکشن اور طلبہ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کیا گیا ہے تاکہ تحقیق اور مطالعے کے لیے ایک مؤثر اور سازگار ماحول میسر آسکے۔

اس اہم اقدام کے علاوہ کے ایم یو میں ڈیجیٹل لائبریری اور پاکستان ایجوکیشن ریسرچ نیٹ ورک بھی مکمل طور پر فعال ہیں، جس سے طلبہ اور اساتذہ آن لائن تحقیقی اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک انفارمیشن ریسورس سینٹر کے قیام کا منصوبہ زیرِ عمل ہے جو آنے والے مہینوں میں طلبہ کی تحقیقتی سہولتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ کسی بھی جامعہ کی اصل طاقت اس کے علمی وسائل اور تحقیق کے مواقع ہوتے ہیں اور ایک فعال لائبریری اس نظام کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کی کوشش ہے کہ طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ مطالعے، تحقیق اور علمی جستجو کے ذریعے اپنے علم کو مزید وسعت دے سکیں۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی محدود وسائل کے باوجود اپنے تعلیمی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو ایک ایسا ماحول فراہم کیا جا سکے جو انہیں پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے لیے بہتر طور پر تیار کرے۔ ان کے مطابق لائبریری جیسے اقدامات دراصل اس وسیع وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد طلبہ کو مضبوط علمی بنیاد فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں جدید لائبریری کا افتتاح

اس موقع پر سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی (سی آئی ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر سروش لودھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول کی فراہمی دراصل مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو جتنا بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا ان کی صلاحیتیں اتنی ہی بہتر انداز میں سامنے آئیں گی۔

ڈاکٹر سروش لودھی نے کہا کہ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا کام صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ ہم دراصل آنے والی نسل کی تربیت اور پرورش کے ذمہ دار ہیں۔ ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ جو طلبہ کل کو ہماری جگہ لیں وہ ہم سے زیادہ بہتر ہوں۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ہر نئی نسل اپنے پیش روؤں سے آگے بڑھ کر ملک اور معاشرے کی خدمت کرے۔ اس طرح کے اقدامات بظاہر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت یہ ایک بڑے عزم کی طرف بڑھتے ہوئے اہم قدم ہوتے ہیں۔

انہوں نے جامعات کی ترقی میں حکومت سندھ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے غیر معمولی مالی معاونت فراہم کی ہے۔ جامعات کی بہتری میں حکومت سندھ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ صوبہ سندھ نے یونیورسٹیوں کے لیے تقریباً 42 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں جو ایک غیر معمولی مثال ہے۔ 

تقریب میں شریک طلبہ نے بھی نئی لائبریری کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔ ایک طالب علم نے کہا کہ جدید لائبریری کی موجودگی ان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے مضامین سے متعلق مستند کتب اور تحقیقی مواد تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔ ایک طالبہ نے کہا کہ پُرسکون اور منظم مطالعہ گاہ امتحانات کی تیاری اور تحقیق میں بہتر توجہ دینے میں مدد فراہم کرے گی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ لائبریری محض ایک مطالعہ گاہ نہیں بلکہ ایک ایسا علمی مرکز ہے جو طلبہ کو تحقیق، مطالعہ اور پیشہ ورانہ ترقی کی طرف راغب کرے گا۔ یہ اقدام جامعہ کے اس وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط علمی بنیاد قائم کرنا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں