نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا، حنیف عباسی کا لندن میں خطاب
وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنے والوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا جبکہ کشمیریوں کے مسائل طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
لندن میں پاکستانی بزنس مین اور تمغۂ امتیاز کے حامل سلیمان رضا کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب میں حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے خسارے سے نکل کر منافع بخش ادارہ بن چکا ہے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے گزشتہ برس ساڑھے 4 ارب روپے جبکہ رواں برس 28 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔
ان کے مطابق پہلے ادارہ 100 روپے کمانے کے لیے 130 روپے خرچ کرتا تھا، گزشتہ برس یہ شرح کم ہو کر 96 روپے جبکہ رواں برس 84 روپے رہ گئی ہے، جو ادارے کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا ثبوت ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ لاہور سے کراچی تک ڈبل ٹریک موجود ہے اور مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، پاکستان ریلوے کی 35 ارب روپے مالیت کی اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ 8 روٹس کے منصوبوں کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، 4 منصوبوں کی فیزیبلٹی رپورٹس اور سروے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خواہش ہے کہ موجودہ پارلیمانی مدت ختم ہونے سے قبل 8 میں سے کم از کم 4 برانچ روٹس کے منصوبے مکمل کر لیے جائیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس حوالے سے پالیسی سامنے آنے کے بعد وہ اس کے پابند ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آج کی تاریخ تک دونوں جماعتوں کے درمیان مثالی تعاون ہے اور دونوں مل کر حکومت چلا رہی ہیں، اس لیے نئے صوبوں کے معاملے پر بھی مشترکہ تعاون سے کام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، تاہم مذاکرات کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک طریقۂ کار ضروری ہے، کسی ایک فرد یا گروہ کی خواہش پر آئین میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، ورنہ ہر شخص اپنی بات منوانے کے لیے الگ راستہ اختیار کرے گا۔
کشمیر کے معاملے پر وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے، آزاد کشمیر میں لوگوں کی جان، مال اور عزت محفوظ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کشمیریوں کو پاکستان کے لیے انتہائی قابل احترام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر سمیت ملک کے تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور اس کے آئین و قانون کو ہر معاملے میں مقدم رکھا جانا چاہیے اور اس کے بعد جو بھی جائز مطالبہ ہو، حکومت کو اسے پورا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنے والوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، پاکستان نے مشکل وقت میں افغانیوں کو پناہ دی، تاہم جن لوگوں کو کئی دہائیوں تک پاکستان نے پناہ دی، آج ان کے رویے سب کے سامنے ہیں۔
وفاقی وزیر نے میزبان سلیمان رضا کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا ہے۔
اس موقع پر سلیمان رضا نے مختصر مدت میں پاکستان ریلوے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر وفاقی وزیر حنیف عباسی کو خراج تحسین پیش کیا، تقریب کی میزبانی بلال امتیاز نے کی۔




