سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس، ٹک ٹاک لائیو پر پابندی زیر بحث

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس، ٹک ٹاک لائیو پر پابندی زیر بحث

قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا جس میں ٹک ٹاک لائیو کے استعمال پر پابندی، 16 سال سے کم عمر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے پر سختی کرنے اور سرکاری افسران کےلیے مختص میسجنگ کی سپر ایپ بنانے کے امور زیر بحث آئے۔ 

سینیٹر پلوشہ خان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا۔ اس دوران سینیٹر افنان اللّٰہ کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک لائیو پر انتہائی نامناسب اور خطرناک حرکتیں ہو رہی ہیں۔ 

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے پی ٹی اے سے تحریری طور پر درخواست کرتا ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹک ٹاک لائیو پر سرکاری طور پر پاکستان میں پابندی ہے۔ وی پی این لگا کر ٹک ٹاک لائیو کے استعمال سے متعلق کچھ نہیں ہو سکتا۔

سینیٹر افنان اللّٰہ کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک لائیو پر توہین اسلام سے متعلق مواد بنایا جارہا ہے۔

سینیٹر کامران  مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر معاشرے میں ایسی چیزیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ کچھ ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق وزیر مملکت طلال چوہدری سے ملاقات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 500 شکایات سوشل میڈیا سے متعلق آرہی ہیں۔

کمیٹی ارکانن کا کہنا تھا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر سختی کی جائے۔

اجلاس کے دوران پاکستانی افسران کا حساس ڈیٹا بیرون ملک فروخت کرنے کا ایجنڈا بھی زیر غور آیا۔ 

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی، اعلیٰ اداروں کی شخصیات کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے والا گروہ دھرلیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں ایک گینگ پکڑا گیا ہے۔ گینگ پیسوں کے عوض اعلیٰ افسران کا ڈیٹا بیرون ملک فروخت کر رہا تھا۔

کمیٹی نے سرکاری افسران کے لیے مختص میسجنگ کی سپر ایپ بنانے کی سفارش کردی۔ قائمہ کمیٹی نے پی ٹی اے کو ایپ بنانے سے متعلق کام شروع کرنے کی ہدایت بھی کردی۔ 

کمیٹی میں ٹیلی کام کمپیٹیشن قواعد کو نوٹیفائی کرنے سے متعلق ایجنڈا زیر غور لایا گیا۔ ٹیلی کام کمپنیوں سے مشاورت کے لیے قائمہ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی کو 15 دن کی مہلت دے دی۔

پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بقایا جات پر قائمہ کمیٹی نجکاری اور آئی ٹی کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اور کوئٹہ رجسٹری کا لنک آپس میں نہیں جڑ رہا تھا۔ 

کمیٹی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے سے متعلق شکایات آ رہی ہیں۔ پورے ملک میں انٹرنیٹ سروسز سے متعلق ایک ماہ میں بریفنگ دے دیں گے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں