174 ترامیم ہیں جو آئی ایم ایف پاس کروانا چاہتا ہے، سیکریٹری خزانہ

قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری خزانہ امداد اللّٰہ بوسال کا کہنا ہے کہ کئی جگہوں پر سبسڈائز کیا جا رہا تھا جنہیں ختم کیا جا رہا ہے، مجموعی طور پر 174 ترامیم ہیں جو آئی ایم ایف پاس کروانا چاہتا ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ ترامیم کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار ہے، ہم یہ تمام ترامیم پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیں گے۔
سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن اس وقت پاکستان آیا ہوا ہے، پیر سے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ جائزہ مذاکرات شروع ہوں گے، ساورن ویلتھ فنڈ بھی جائزہ مذاکرات کا حصہ ہیں، ساورن ویلتھ فنڈ میں گورننس میکانزم کو اپروو کرنا ہے، بینچ مارک یہ ہے ساورن ویلتھ فنڈ میں ترامیم پارلیمنٹ سے منظور کروانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ترسیلات زر پر بھی ایک انڈراسٹینڈنگ ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شوگر پالیسی کی لبرلائزیشن بھی شامل ہوگی، شوگر پر تین صوبوں کا اتفاق ہے، ایک صوبے کے کچھ اعتراضات ہیں۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اعتراضات کرنے والا صوبہ کون سا ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ اسلامک بینکنگ سے متعلق ایک معاملہ ہے جس پر ہم کام کر رہے ہیں، ٹیکس پالیسی آفس سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئیں گے، مشن کے ساتھ پاور سیکٹر میں ڈسکوز کی نجکاری پر بھی بات چیت ہوگی۔
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ منافع بخش ڈسکوز تو آپ دے دیں گے، باقیوں کا کیا بنے گا۔




