جو صوبہ اور انتظامی یونٹ چاہتے ہیں ان کے پاس اس کا فارمولا بھی ہے: وسیم اختر

متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ ملک چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، جو صوبہ اور انتظامی یونٹ چاہتے ہیں ان کے پاس اس کا فارمولا بھی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے میرٹ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں اور اندرونِ سندھ امتحانات دے کر ڈاکٹرز کراچی میں نوکریاں حاصل کر رہے ہیں جبکہ جعلی ڈومیسائل اور میرٹ کا قتلِ عام پیپلز پارٹی کا وتیرہ ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی 4 کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے اور موجودہ نظام کے تحت اس شہر کی گورننس ممکن نہیں رہی ہے۔
وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے ہم نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو سپورٹ کیا لیکن ہماری بانیٔ پی ٹی آئی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے تعلیمی اداروں کو تباہ کر رہی ہے اور اس نے میرٹ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔
وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام اور عدلیہ کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے، چیف جسٹس سے معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ صوبے اور کراچی کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتے، اندرونِ سندھ 80 فیصد نمبر لینے والے کراچی میں فیل ہو جاتے ہیں، یہ میڈیکل کالجز اور جامعات کس حکومت کے ماتحت ہیں؟
انہوں نے مزید کہا ہے کہ جعلی ڈگریوں سے سندھ حکومت اپنے وکلاء کی تعداد تو بڑھا سکتی ہے لیکن معیار کا کیا ہو گا، جعلی ڈگری رکھنے والے وکلاء کیا انصاف فراہم کر سکیں گے؟
ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہتے کوئی خیر کی اُمید نہیں رکھی جا سکتی۔




