پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس، لاہور جم خانے کرایہ معاملے پر بورڈ آف ریونیو سے تفصیلات طلب

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس، لاہور جم خانے کرایہ معاملے پر بورڈ آف ریونیو سے تفصیلات طلب

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 میں لاہور جم خانے کے کرائے کے معاملے پر کمیٹی کے چیئرمین سمیع اللّٰہ خان نے بورڈ آف ریونیو سے تفصیلات طلب کرلیں۔ 

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 کا چیئرمین سمیع اللّٰہ خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں جم خانہ کا آڈیٹر جنرل سے کمرشل آڈٹ نہ کروائے جانے کا انکشاف ہوا۔ 

سیکریٹری بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ 1996 میں جم خانہ لیز سی ایم سیکریٹریٹ کی ہدایت پر کی گئی۔

کمیٹی کے چیئرمین نے استفسار کیا کہ کیا سی ایم ہدایت میں 5000 کرایہ مختص کرنے کا لکھا تھا؟ جس پر سیکریٹری نے جواب دیا کہ سی ایم کی ہدایت میں نہیں، کمشنر بورڈ آف ریونیو کو لکھے خط میں ذکر موجود ہے۔

چیئرمین نے مزید کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ اشرافیہ 5 ہزار کرایہ مناسب سمجھتی ہے۔

کمیٹی رکن امجد علی جاوید نے کہا یا تو جم خانہ 52 ارب کرائے کی مد میں ادا کرے یا دکان مالکان سے 65 ہزار کرایہ نہ مانگے۔

کمیٹی کے ممبر افتخار حسین چھچھر کا کہنا تھا کہ جم خانہ سے کوئی لڑائی نہیں، ریاست بتائے کہ لیز کیسے ہوئی؟

علی حیدر گیلانی کے سوال پر ڈی جی آڈٹ نے بتایا کہ جم خانہ ان سے آڈٹ نہیں کروا رہا۔ وہ آڈٹ کا معاملہ ہائی کورٹ میں لے جا چکا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے ایک رٹ سپریم کورٹ میں کر رکھی ہے جو تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کلب کا بھی آڈٹ ہوتا ہے۔

کمیٹی کے رکن راؤ کاشف رحیم اور ذوالفقار شاہ بولے کہ بتایا جائے کیا تعمیرات سے پہلے متعلقہ محکمے سے اجازت لی گئی اور تعمیرات کی فیسیں ادا کی گئیں۔

پارلیمانی سیکریٹری خالد رانجھا نے کہا کہ اگر بات 2 پاکستان ختم کرنے کی ہے تو کرایہ داری چھوڑ کر یہ جگہ واپس لینی چاہیے۔

راؤ کاشف نے کہا کہ جم خانہ کمیٹی معطل کر کے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنا چاہیے تاکہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوسکے۔

سمیع اللّٰہ خان نے کہا کہ سوالات سب کے سن لیے، ان سب کے جواب آنے چاہئیں، ورنہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں لے جائیں گے۔

جم خانہ کمیٹی کا موقف بھی سننا چاہتے ہیں، جمخانہ کمیٹی نہ آئی تو کوئی مسئلہ نہیں، جواب اداروں نے دینا ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں