40 سال خاندان سے جدائی کا دکھ سہنے بعد بنگلادیش جانے والی رضیہ کو آف لوڈ کر دیا گیا

40 سال خاندان سے جدائی کا دکھ سہنے بعد بنگلادیش جانے والی رضیہ کو آف لوڈ کر دیا گیا
غمزدہ رضیہ اپنی بپتا سناتے ہوئے۔
غمزدہ رضیہ اپنی بپتا سناتے ہوئے۔

بنگلادیش سے پاکستان اسمگل کی جانے والی رضیہ بی بی 40 سال تک خاندان سے جدائی کا دکھ سہتی رہیں اور اہل خانہ سے ملنے کی تڑپ لیے کوششیں جاری رکھیں۔

لیکن جب منزل نزدیک آئی تو ایف آئی اے امگریشن نے آف لوڈ کر دیا، رضیہ بی بی کو 18برس کی عمر میں ایک فیکٹری میں کام کرنے والی ساتھی ورکر نے سونا خریدنے کے بہانے بھارت کے راستے کراچی اسمگل کیا تھا۔

پتوکی سے آئے ہوئے ایک شخص نے انہیں 5000 روپے کے عوض خرید لیا۔ دو سال قبل قریبی فارمسسٹ نے بنگلادیش میں رضیہ کے بتائے ہوئے پتے پر اس کا رابطہ خاندان سے کروایا تھا۔

رضیہ بی بی کا کہنا ہے کہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے کرب سے گزر رہی ہے، حکومت سے اپیل ہے کہ مسئلے کو جلد حل کیا جائے۔



50% LikesVS
50% Dislikes
September 2026
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  

اپنا تبصرہ بھیجیں