ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری پریس بریفنگ دے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار، خوارج ہلاک اور 400 سے زائد زخمی کردیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں اور 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں، دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں۔ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ان ٹارگٹس میں افغان کے کور ہیڈکوارٹرز، بٹالین ہیڈکوارٹرز، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں شامل تھیں، افغان فوسز اور خوارج اپنی لاشیں تک چھوڑ کے بھاگے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اب تک پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکر سوکالڈ ایکشن کیا۔ پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا۔

فوٹو: اسکرین گریب
فوٹو: اسکرین گریب

انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، افغان طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی صورت میں جواب دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے، جس کے دوران افغان جارحیت کیخلاف فضائی اور بری افواج کی فیصلہ کن کارروائیاں کی گئیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں