اسلام آباد ہائیکورٹ، خاتون ڈاکٹر پر تشدد، دوبارہ میڈیکل کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وائس چانسلر کی دوبارہ میڈیکل کرانے کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی۔
عدالت عالیہ اسلام آباد میں شادی کا مطالبہ کرنے پر خاتون ڈاکٹر کو تشدد کرنے والے وائس چانسلر کی اپیل یہ کہہ کر مسترد کردی کہ کافی تاخیر کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینا ایک لاحاصل مشق ہو گی۔
جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی شہزاد علی خان کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ معمولی نوعیت کی چوٹیں اور خراشیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، تاخیر سے کیے گئے معائنے کی کوئی قانونی یا طبی اہمیت باقی نہیں رہتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ کافی تاخیر کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینا ایک لاحاصل مشق ہو گی، سنگل بینچ کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔
درخواست گزار نے سنگل بینچ کے 19 نومبر 2025ء کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
ڈاکٹر عائشہ خان کے مطابق شادی کے مطالبہ پر شہزاد علی خان نے ان پر تشدد کیا۔
مبینہ واقعے کے بعد ڈاکٹر عائشہ خان کا پمز اسپتال سے میڈیکو لیگل معائنہ کروایا گیا تھا۔
شہزاد علی خان نے ایم ایل سی کو جعلی اور ٹمپرڈ قرار دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی، جسے سنگل بینچ نے مسترد کیا تو ڈاکٹر شہزاد نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔



