مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈپلومیسی ہی مسئلے کا حل ہے ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا معاملہ نکل آئے گا، اس سے متعلق یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے رابطہ کر چکے ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں خطے کی بگڑتی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے بارے میں ایرانی قیادت بخوبی آگاہ ہے، جب پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی صدارت تھی اس وقت بھی ہم نے امریکا اور ایران کے مسئلے پر کئی مباحثے کروائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کو پُرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی بات منوائی اور ہم امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے تیار تھے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیابی سے چل رہا تھا جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا، بڑے پُرامید تھے کہ ایران مذاکرات مثبت جا رہے ہیں، اسی دوران ایران پر گزشتہ سال جون کی طرح کا حملہ ہو گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مذاکرات کا عمل کامیابی سے چل رہا تھا اور عمان نے ثالث کا کردار ادا کیا، عمان کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات مثبت جا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور دلائل دیے کہ ایٹمی توانائی کا پُرامن استعمال سب کا حق ہے، ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے عرب ممالک کے ساتھ رابطے کیے گئے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے کے بعد پاکستان نے بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی ہے، گزشتہ 3 دنوں میں کئی ممالک سے پاکستان رابطہ کر چکا ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طریقے ڈپلومیسی کو مذاکرات پر لایا جائے، ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا معاملہ نکل آئے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ عمان کے وزیر خارجہ سے رات گئے میری بات ہوئی، ایران ہمارا ہمسایہ ملک مسلمان بھائی ملک ہے، جو معلومات یہاں دے رہا ہوں یہ ہم نے میڈیا کو بھی نہیں دیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو آگاہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایران کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، ہم اعلانیہ اور بیک ڈور سفارت کاری کے لیے بہت متحرک ہیں، ہماری کوششوں سے ایرانی قیادت مکمل آگاہ اور شکر گزار بھی ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ تفتان زاہدان بارڈر آپریشنل ہیں اور 792 پاکستانیوں کو نکال لیا گیا، سڑکیں کھلی ہیں، جبکہ ایئر اسپیس بند ہے، اس وقت پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت کی پوزیشن یکساں ہے اور کل تمام ممالک کے سفیروں کو دفتر خارجہ میں ایران اور افغانستان کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت چیلنجنگ ہے، پورے خطے میں کشیدگی ہے اور پاکستان کا فرض ہے کہ امن قائم رکھے، جبکہ اسرائیل کو پاکستان قبول نہیں کرتا اور پاکستانی پاسپورٹ اسرائیل کے لیے درست نہیں ہے۔




