اسلام آباد میں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں تکنیکی سیشنز کا آغاز

اسلام آباد میں دو روزہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں تکنیکی سیشنز کا آغاز ہوگیا۔
کانفرنس میں 57 رکن ممالک کے مندوبین نے شرکت کی، وفاقی وزیر انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کی ترک وزیر ماہینور اوزدمیر گوکتاش سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں خواتین اور بچوں کے حقوق اور سماجی بہبود میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق اور سماجی تحفظ کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
آذربائیجان کی ہیڈ آف ایڈمنسٹریٹو ڈویژن جلیلہ اللّٰہ وردیئیوا کی بھی اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات ہوئی، جس میں خواتین کے حقوق، سماجی ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو عزت، مساوات اور بنیادی حقوق فراہم کیے، مسلم امہ کی ذمہ داری ہے کہ حقوق کے تحفظ اور فروغ کو یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خواتین کے لیے ترجیحی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ خواتین سیاست، پارلیمان، عدلیہ، تعلیم، کاروبار، دیگر شعبوں میں کردار ادا کر رہی ہیں، خواتین کی ترقی، ادارہ جاتی روابط کے فروغ، تجربات کے تبادلے، باہمی تعاون مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کی میزبانی کو اعزاز قرار دیا۔ کانفرنس میں خواتین کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے میں درپیش چیلنجز اور مستقبل کے طریقۂ کار پر غور ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس سے خطاب کریں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شرکت کریں گی۔




