سندھ میں صوبے کیلئے ایم کیو ایم اچھل رہی ہے، جو مرضی کر لو، صوبہ نہیں بنے گا: سعید غنی

صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو مرضی کر لو، سندھ میں صوبہ نہیں بنے گا، سندھ میں صوبے کے لیے ایم کیو ایم اچھل رہی ہے اور نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ دیگر جماعتیں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں جبکہ مصطفیٰ کمال نے خود کہا ہے کہ سکھر کے عوام نے صوبہ بنانے کی مخالفت کی ہے، ایم کیو ایم کے 3، 4 لوگوں کی حیثیت کیا ہے، یہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ میں دہرے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا جبکہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدے کے مطابق کراچی کو الگ نظام دیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی کے احتجاج پر سعید غنی نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا دعویٰ ہے کہ وہ عوامی مسائل کے لیے احتجاج کرتی ہے، لیکن کراچی کو 18 مقامات پر بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، حافظ نعیم ایسی جگہ جا کر احتجاج کریں جہاں ان کے لیے ہمدردی پیدا ہو۔
انہوں نے لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر کہا کہ شہباز شریف کو اس سے کیا فرق پڑا ہے؟ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی جائے تو شہباز شریف ان کی بات سنیں گے۔
سعید غنی نے کہا کہ تمام صوبوں نے اپنے حصے کے مطابق وفاق کو پیسے دیے، سندھ نے بھی اپنا حصہ دیا، اگر پیسے نہ دیتے تو کہا جاتا کہ وفاق کو پیسوں کی ضرورت ہے اور آپ نے نہیں دیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صورتحال مختلف ہے، سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ قابلِ قبول نہیں۔




