پاکستان کے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت آ گیا: احسن اقبال

---جنگ فوٹو
—جنگ فوٹو 

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر پائیدار اقتصادی ترقی، پیداوار میں اضافے، برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع کی طرف جانا ہو گا۔

وفاقی 0وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں ہارورڈ بزنس اسکول کے ایم بی اے کے طلبہ سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کا بنیادی معاشی چیلنج اب معاشی استحکام کے بجائے معیشت میں بنیادی اور پائیدار تبدیلی لانا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو صرف مسائل اور مشکلات کے تناظر میں نہیں بلکہ اپنی وسیع صلاحیتوں اور امکانات کے حوالے سے بھی دیکھا جانا چاہیے، تقریباً 26 کروڑ آبادی، بڑی نوجوان افرادی قوت، اہم جغرافیائی محلِ وقوع، زرعی و معدنی وسائل، تیزی سے وسعت پذیر ڈیجیٹل معیشت اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی برادری ملک کو طویل المدت معاشی تبدیلی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی تیزی، بیرونی کھاتوں پر دباؤ، استحکام کے اقدامات اور معاشی سست روی کے بار بار آنے والے چکر سے نکلنا ہو گا جس کے لیے معیشت کی بنیاد پیداوار اور برآمدات کے فروغ پر استوار کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے طلبہ کو اڑان پاکستان کے جامع قومی لائحۂ عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی بنیاد جن شعبوں پر رکھی گئی ہے، ان میں برآمدات، کاروبار اور روزگار، ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیجیٹل معیشت، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور آبی تحفظ، توانائی اور بنیادی ڈھانچہ جبکہ مساوات، اخلاقیات اور بااختیار بنانا شامل ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے 2035ء تک 1 کھرب ڈالرز کی معیشت بننے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم مقصد صرف مجموعی قومی پیداوار کا ایک بڑا عدد حاصل کرنا نہیں بلکہ قومی پیداواری صلاحیتوں کو اس سطح تک پہنچانا ہے کہ پاکستان 2035ء میں ایسی مصنوعات اور خدمات عالمی منڈی میں مسابقتی بنیادوں پر فروخت کر سکے جو آج پیدا نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی ترقی قومی صلاحیتوں کی تعمیر کا نام ہے جبکہ پیداوار، معیار اور جدت پاکستان کی مستقبل کی مسابقتی صلاحیت کے بنیادی عناصر ہیں، حکومت پیداوار، معیار اور جدت کی قومی ثقافت فروغ دے رہی ہے تاکہ دنیا میں پاکستان میں تیار کردہ مصنوعات کی شناخت قابلِ اعتماد، معیاری اور قدر افزاء مصنوعات کے طور پر قائم ہو۔

انسانی وسائل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام ہیں، اگر نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم، بہتر غذائیت، صحت، فنی مہارتوں اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہی آبادی معاشی بوجھ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ یہ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے تاریخ ساز موقع ہے تاہم تکنیکی صلاحیتیں پیدا کرنے میں ناکام ممالک نئی عالمی ذہانت کی تقسیم میں پیچھے رہ سکتے ہیں، پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا محض صارف بننے کے بجائے تخلیق کار اور مقامی ضروریات کے مطابق انہیں ڈھالنے والا ملک بننا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جدید صنعت، زراعت اور خلائی علوم سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کو اپنی تکنیکی اور تحقیقی صلاحیتیں فروغ دینا ہوں گی۔

موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ واضح کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات مالی استحکام، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے، عوامی صحت اور غربت پر مرتب ہوتے ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں پر توجہ دی گئی جبکہ اگلے مرحلے میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، زراعت، برآمدات اور کاروباری شعبے کے باہمی روابط کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر معاشی تبدیلی صرف حکومت کے ذریعے ممکن نہیں، جدید ریاست کو کاروباری سرگرمیوں، جدت اور مسابقتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے، مؤثر نگرانی اور سہولت کاری کا کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ نجی شعبے کو کاروباری سرگرمیوں، جدت اور مسابقتی سرمایہ کاری میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک پالیسیوں کا تسلسل ہے، کامیاب ممالک مختلف معاشی ماڈلز پر عمل پیرا رہے تاہم ان سب میں ایک قدر مشترک پالیسیوں اور سمت کا تسلسل رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کو پاکستان کو سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کی سر زمین کے طور پر دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی موجودہ کارکردگی اور حقیقی صلاحیتوں کے درمیان موجود خلاء کا جائزہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ترقی کا سفر شہریوں کے لیے مواقع کو وسعت دینے کا سفر ہے، ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ ہے کہ ہر نوجوان پاکستانی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جنس، علاقے یا معاشی پسِ منظر سے ہو، معیاری تعلیم حاصل کر سکے، مفید ہنر سیکھ سکے، باعزت اور پیداواری روزگار حاصل کر سکے، اپنا کاروبار شروع کر سکے اور بہتر مستقبل کا اعتماد کے ساتھ تصور کر سکے۔

احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

وفاقی وزیر نے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کو مستقبل میں پاکستان واپس آنے اور محض سیاح یا مہمان کے بجائے سرمایہ کار، کاروباری شخصیت اور پاکستان کی معاشی تبدیلی کے شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔

انہوں نے طلبہ کو ایک سال پاکستان میں گزارنے اور اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ملک کی معاشی تبدیلی کے لیے بروئے کار لانے کی بھی دعوت دی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں