بدین کے علاقے کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا
بدین کے علاقے کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا، سابق پولیس سرجن وقار احمد نے نوجوان کو گولیاں آٹھ سے دس فٹ کے فاصلے پر لگی ہونے کا دعویٰ کردیا، کہا کہ جائے واردات اور لاش ورثا کے حوالے کرنی کی ویڈیو سے لگتا ہے کہ نوجوان کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا، ایسا بھی لگ رہا ہے کہ نوجوان کے ہاتھ میں پستول رکھ دیا ہے۔
بدین کے علاقے کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت پر یکے بعد دیگرے تنازعات جنم لینے لگے، پولیس نے مقابلے اور پوسٹ مارٹم کو اصلی قرار دیا تھا، لیکن سابق پولیس سرجن ڈاکٹر وقار احمد نے پولیس کے دعوؤں کوجھٹلا دیا۔
جب سوال کیا گیا کہ مقدمے کے مطابق نواجوان پر پولیس نے ہوائی فائرنگ سے ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے تو کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تمام گولیاں نوجوان کے جسم سے آر پار ہوئی ہیں تو کہا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہوائی فائرنگ سے گولیاں آر پار ہوئی ہوں، گولیاں آٹھ سے دس فٹ کے فاصلے سے لگی ہیں۔
جب ڈاکٹر وقار احمد کو جائے واردات اور لاش ورثا کو حوالے کرنے سے متعلق ویڈیوز دکھائی گئیں تو کہا کہ نوجوان کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا، دونوں ویڈیو میں کہیں جسم پر پوسٹ مارٹم کیلئے کٹ لگنے کے نشانات نہیں، میڈیکو لیگل افسر نے صرف جسم کے اوپر والے حصے کو دیکھ کر ہی شاید رپورٹ بنائی ہے۔
واضح رہے کہ 26 جولائی کو کڈھن میں مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت کو ورثا نے جعلی قرار دیا تھا اور قبرکشائی سمیت انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، پولیس کے مبینہ مقابلے کے خلاف ورثا کی درخواست پر سماعت سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد میں سماعت 14 ستمبر کو ہوگی۔




