دہشتگردی نیٹ ورک چلانیوالے شخص ضیاء کو گرفتار کیا گیا، جس کے افغانستان سے رابطے تھے: طلال چوہدری

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان ایک ’سپر پراکسی‘ ہے، پاکستان میں دہشت گردی میں افغان سر زمین استعمال ہو رہی ہے، ٹیرر کرائم نیٹ ورک پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور پاکستان میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جاتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ضیاء نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے مختلف افراد کو اسلحہ فراہم کرنے کا کام کرتا تھا۔
وزیر مملکت نے بتایا ہے کہ ضیاء نامی شخص دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا اور اس کے افغانستان سے بھی رابطے تھے، ضیاء کا افغانستان بھیجنے والے شخص زرشاد سے بھی رابطہ تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ضیاء اور ماجد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو بھی چلائی گئی۔
طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو بیرونی قوتوں کی جانب سے مدد فراہم کی جا رہی ہے، بدقسمتی سے ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک ’سپر پراکسی‘ ہے اور ٹیرر کرائم نیٹ ورک کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
آزاد کشمیر میں نام نہاد عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، کالعدم ایکشن کمیٹی نے کشمیر کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔




