اگر فریقین کچھ لچک دکھائیں تو مذاکرات اب بھی ہوسکتے ہیں: شوکت یوسفزئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ مذاکرات سے امید تھی کہ ملک موجودہ بحران سے نکل پائے گا، اگر فریقین کچھ لچک دکھائیں تو مذاکرات اب بھی ہوسکتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ 26 سال پرانا ہے، اسے 72 گھنٹے میں حل کرنا مشکل ہے۔ اگر مذاکرات کے لیے کچھ مزید وقت دیا جاتا تو بات چیت کامیاب ہوسکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متفقہ لائحہ عمل بنتا تو وہ زیادہ مؤثر ہوتا۔ نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت سے بات کرنی چاہیے، اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنا ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے اعتماد سازی کرنا ہوگی۔ مذاکرات میں تھوڑا وقت مزید دیا جاتا تو بہتر نتائج سامنے آسکتے تھے۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق لانگ مارچ کی قیادت سہیل آفریدی کریں گے اور وہ 8 اکتوبر کو ہزارہ پہنچ کر نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔




