کراچی: جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے جانے کا انکشاف
جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ روپے مالیت کے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
کسٹمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں2 کمپنیوں کو مبینہ جعلی قرار دیتے ہوئے انڈر انوائسنگ، ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ اور خفیہ بینیفیشل اونرز کی فنڈنگ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق راؤٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر درآمد کیے گئے جبکہ اربوں روپے کی درآمدات کے مقابلے میں دونوں کمپنیوں کے مالکان کا مشترکہ ابتدائی سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا۔
ایر فریٹ یونٹ سے انٹرنیٹ راؤٹرز کی مشکوک درآمد کا انکشاف سامنے آیا ہے، کسٹمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2 مبینہ جعلی کمپنیوں نے 71 ہزار 815 راؤٹرز درآمد کیے، جن کی مجموعی مالیت ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق راؤٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر درآمد کیے گئے، جبکہ دونوں کمپنیوں کو فرنٹ مین کے نام پر رجسٹر کرکے مبینہ طور پر خفیہ آپریٹرز کے لیے مارکیٹ آئی ڈیز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
دونوں کمپنیوں کے کاروباری پتے بھی مشکوک قرار دیے گئے، ایک مقام پر آٹا اور چاول کی دکان جبکہ دوسرے پر کرائے کا رہائشی مکان موجود تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک اکاؤنٹس ہزاروں آئی پی ایڈریسز سے استعمال ہوئے جبکہ 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز بھی مشترک نکلے۔
رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر انڈر انوائسنگ بھی ہوئی، راؤٹرز کی درآمدی قیمت 9 کروڑ 70 لاکھ روپے ظاہر کی گئی، جو کسٹمز اسیسمنٹ میں بڑھ کر 56 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوگئی۔




