دہشتگردوں کے کیمپ میں اسرائیلی بھی آکر ٹریننگ دے رہے ہیں: رانا ثناء اللّٰہ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیل کے لوگ بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق کی پالیسی پر عمل کرنا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے کا وفاقی حکومت کو آئینی اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ان سے مذاکرات کریں ان کے ساتھ مذاکرات کرتے 15 سال گزر گئے۔

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور چین نے مذاکرات کیے وہ کسی بات پر آ ہی نہیں رہے۔ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث لوگ افغانستان سے ٹریننگ لے کر آتے ہیں وہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت میں پالیسی بنائی کہ دہشتگردوں کو عام معافی دے کر واپس لانا ہے۔ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن سے مشاورت نہیں صرف بریفنگ دی گئی تھی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی اس پالیسی کی سابق فاٹا کے لوگوں نے مخالفت کی تھی۔ فاٹا کے لوگوں نے کہا کہ یہ لوگ واپس آکر وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت کا موقف تھا کہ دہشتگرد ہتھیار رکھ دیں گے اور قانون کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹیجک فیصلے اوپن فورم پر نہیں ہوتے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے۔ دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ میں اسرائیل کے لوگ بھی آکر ان کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ یہ ڈرونز اس سے پہلے تو افغان طالبان نے نہیں چلائے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل، بانی پی ٹی آئی کی صحت، ملاقاتوں سے متعلق ساری چیزیں طے ہوگئی تھیں۔ عسکری اور سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہر قیمت پر دہشتگردی کے خلاف اس پالیسی کیلئے کردار نبھانا ہوگا۔ پی ٹی آئی رابطے تو مذاکرات سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی ہیں۔

رانا ثنا اللّٰہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر مثبت پیشرفت کی یقین دہانی پر دوبارہ بیٹھا جاسکتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ذاتی معالجین پر تو ہم متفق ہوگئے تھے۔ ہم نے کہا کہ ذاتی معالجین کے لیے عدالت چلے جائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فائنل ڈرافٹ کے بعد جب یہ کمرے میں گئے تو وہاں ان کا اسٹے کچھ لمبا ہوا۔ پی ٹی آئی والے کمرے سے باہر آئے تو کہا کہ یہ پالیسی مشاورت نہیں، اتفاق رائے سے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تو وفاقی حکومت کا اختیار ہے کہ بیرونی جارحیت پر پالیسی بنائے، اس پالیسی پر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم متفق ہوئے تو پالیسی بنائیں گے۔ پالیسی سے متعلق پی ٹی آئی کا موقف آئینی اور قانونی طور پر غلط ہے۔

رانا ثنا اللّٰہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو حق نہیں کہ بیرونی جارحیت سے متعلق پالیسی پر وفاق کو اتفاق رائے پر مجبور کرے۔ سہیل آفریدی نے جو لانگ مارچ لکی مروت سے شروع کیا وہاں تین چار ہزار آدمی تھے۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ اس لانگ مارچ کا آگے جا کر کیا حال ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لکی مروت جہاں انہوں نے 4 ہزار افراد جمع کیے وہاں 10 افراد جمع نہیں ہوسکتے۔ وہاں اس خوف سے لوگ جمع نہیں ہوتے کہ دہشتگردوں کا حملہ نہ ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ تین چار ہزار لوگ لانگ مارچ سے متعلق تو مایوس کن تعداد ہے۔ چار ہزار لوگوں کے باوجود ان کو پوری تسلی تھی کہ ان پر حملہ نہیں ہونا ہے۔ بات وہی ہے کہ یہ ان کی حمایت کرتے ہیں اور وہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔



50% LikesVS
50% Dislikes
October 2026
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں