طارق فضل چوہدری نے گورنر راج، ایمرجنسی لگنے کی وجہ بتادی
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے کی وجہ بتادی اور کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف تعاون مانگا، یہ کھیل تماشے تفریح کی سیاست کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے عدم تعاون اور خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے یہ اقدام کرنا پڑا، مقاصد کے حصول تک یہ ایمرجنسی برقرار رہے گی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اپوزیشن اپنی آل پارٹیز کانفرنس میں ہمیں بھی دعوت دے، ہم دہشت گردی اور شہدا کے حوالے سے پورا ڈیٹا ان کے سامنے رکھیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج کے نفاذ کو اپوزیشن عدالت میں چیلنج کرسکتی ہے، ایمرجنسی کی توثیق پارلیمان کرے گی۔
طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ وفاق کے انسداد دہشت گردی کے راستے میں یہ رکاوٹ بنتے رہے، 12 اضلاع میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا، مقاصد کے حصول تک یہ ایمرجنسی برقرار رہے گی، مذاکرات کے دروازے بند نہیں کریں گے، ہمارا مقصد دائمی امن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو کئی بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، ہم نے ان سے لانگ مارچ ملتوی کرنےکی درخواست نہیں کی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نےان سے صرف دہشت گردی کے خلاف تعاون مانگا تھا، ایمرجنسی کا نفاذ اچانک نہیں ہوا، دہشت گردی سے متاثرہ علاقے کلیئر کر کے سول انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عوام نےایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو سراہا ہے، کسی جگہ کوئی احتجاج نہیں ہوا، لوگ خوش ہیں کیونکہ 14سال میں صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔




