گوجرانوالہ: زیر حراست ملزمان کو گنجا کرنے کی وائرل ویڈیو، عدالت کا ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا حکم

گوجرانوالہ: زیر حراست ملزمان کو گنجا کرنے کی وائرل ویڈیو، عدالت کا ملوث افراد کیخلاف کارروائی کا حکم
فائل فوٹو
فائل فوٹو 

لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ میں زیر حراست ملزمان کو گنجا کر کے ویڈیو وائرل کرنے پر ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) گوجرانوالہ کو ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ 

جسٹس علی ضیا باجوہ نے قرار دیا کہ پولیس کا کام جرائم کی روک تھام اور قانون کے مطابق تفتیش کرنا ہے، لوگوں کو سزا دینا یا ان کی تذلیل کرنا نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے گوجرانوالہ میں زیر حراست ملزمان کی ویڈیو وائرل کرنے پر آئی جی پنجاب اور آر پی او گوجرانوالہ سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔

 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی کسٹڈی میں زیر حراست ملزم کو بھی آئین کے تحت بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ پولیس کا آئینی فریضہ ہے ان کی حراست میں ہر ملزم کو عزت و تکریم سے دیکھا جائے۔ کسی ملزم کی تذلیل اور عوام کے سامنے ڈی گریڈ کرنے کی قانون میں اجازت نہیں ہے۔ 

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کا کام جرائم کی روک تھام اور قانون کے مطابق تفتیش کرنا ہے۔ لوگوں کو سزا دینا یا ان کی تذلیل کرنا نہیں۔ کسی ملزم کی تذلیل یا عوامی تمسخر کو عدالت برداشت نہیں کرے گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص پر کتنے ہی سنگین الزامات ہوں، جرم ثابت نہ ہونے تک وہ بے قصور ہوتا ہے۔ اختیارات کا ایسا استعمال جو انسانی وقار کے منافی ہو وہ رُول آف لا کے خلاف ہے۔ موجودہ کیس میں پولیس نے رپورٹ میں بتایا کہ وہ ملزمان کو گنجا کرنے میں ملوث نہیں۔ آر پی او گوجرانولہ زیر حراست ملزمان کو گنجا کرنے کی مکمل انکوائری کروائیں اور ملوث افراد کو سزا دیں۔ 

عدالت نے سماعت مکمل ہونے پر درخواست نمٹا دی۔ 



50% LikesVS
50% Dislikes
July 2026
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں