کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اگلے اقدام سے گریز کرے: مولانا فضل الرحمٰن

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی فی الحال کسی بھی اگلے اقدام سے گریز کرے اور چند روز کی مہلت دے تاکہ کوئی پیش رفت ہو سکے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے نام پیغام میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ راولا کوٹ اور گرد و نواح میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی 1 ماہ سے اپنے مطالبات کے لیے دھرنا دیے ہوئے ہے اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس دوران کچھ ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے، جن سے ماحول میں تلخی پیدا ہوئی، مگر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور مطالبات کا پارلیمان میں تذکرہ ہوا۔
امیرِ جے یو آئی نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا، جس پر ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آزادجموں و کشمیر کے مولانا سعید یوسف خان اور راولاکوٹ کی قبائلی شخصیت کامران اعظم خان میرے ساتھ رابطے میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی سے بات چیت پر اگلے اقدامات کے اعلان سے گریز کیا، میری گفتگو بلاول بھٹو زرداری سے ہوئی، وہ مظفر آباد میں ہیں۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو بھی مسئلے کے حل کے لیے مصروف ہیں، انہیں حکومت سے بات کے لیے کچھ مہلت چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو سے ہفتہ، 10 روز پہلے ملاقات ہوئی تھی، اسی تسلسل میں مزید رابطہ ہوا، بلاول چاہتے ہیں کہ خون خرابہ اور فسادات نہ ہوں، بات چیت سے مسئلے کا کوئی حل نکال سکیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ مثبت پیش رفت پاکستانی و کشمیری عوام کے درمیان باہمی اعتماد کے لیے از حد ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں امید رکھوں گا کہ میری اپیل پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مثبت جواب دے گی۔




