کراچی: بی آر ٹی ریڈلائن منصوبہ، حادثے میں آنکھ ضائع ہونے پر شہری کا 17 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ

کراچی: بی آر ٹی ریڈلائن منصوبہ، حادثے میں آنکھ ضائع ہونے پر شہری کا 17 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ
فوٹو: جنگ نقیب الرحمان
فوٹو: جنگ نقیب الرحمان 

کراچی کی سول عدالت میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے دوران حادثے میں آنکھ ضائع ہونے پر 17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا گیا۔

سینیئر سول جج شرقی کی عدالت میں بی آر ٹی ریڈلائن منصوبے کے دوران انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث پیش آنے والے حادثے میں ایک شہری کی آنکھ ضائع ہونے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر اور کانٹریکٹر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ سید وقاص مئی 2025 میں حج کی ادائیگی کے لیے پاکستان سے روانہ ہو رہا تھا۔ رات کے وقت ایئرپورٹ جاتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر مدعی کی گاڑی سڑک کے درمیان رکھے گئے بیریئر سے ٹکرا گئی تھی۔ بیریئر پر نہ تو ریفلیکٹر نصب تھے اور نہ ہی کسی قسم کا وارننگ بورڈ موجود تھا، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔

عثمان فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ حادثے کے نتیجے میں مدعی کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی جبکہ چہرے کی ہڈیوں پر شدید فریکچر آئے تھے۔ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے دوران عوام کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات اور تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

عدالت سے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت، بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی انتظامیہ اور متعلقہ کانٹریکٹر کو طبی اخراجات، بحالی، مستقل معذوری اور دیگر نقصانات کی مد میں مجموعی طور پر 17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں