کراچی پولیس چیف کا شہر میں ڈکیتی و قتل کی وارداتوں میں کمی کا دعویٰ

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے شہر میں ڈکیتی و قتل کی وارداتوں میں کمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں، موٹر سائیکل چھینے جانے کی شرح میں 25 فیصد کمی آئی ہے، ڈکیتی کے دوران قتل کے واقعات کی شرح میں بھی کمی ہوئی ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے دفتر کے دورہ کے دوران کراچی پولیس چیف نے کہا کہ جو نتائج مل رہے ہیں وہ اچھے ہیں مگر ہم مزید بہتری چاہتے ہیں۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان کا کہنا ہے کہ بھتے کے معاملات کو سیریس لے رہے ہیں، ذاتی طور پر ان معاملات کو دیکھ رہا ہوں، بھتا خور باہر ہی ہیں، ہمارے پاس تمام ڈیٹا ہے، ان کے کارندے لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں اس پر کوئی رعایت نہیں کریں گے۔
آزاد خان نے کہا کہ شہر کا امن بڑی مشکل سے آیا ہے، ہمیں اسے ہر حال میں یقینی بنانا ہے، کراچی کی اکنامک سیکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، معیشت کمزور ہوتی ہے تو بےروزگاری اور جرائم بڑھتے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ کراچی شہر میں پلا بڑھا ہوں، اس شہر کا ہم پر قرض ہے، ہم نے اس شہر کے اچھے حالات دیکھے ہیں، سندھ پولیس کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ ہم نے ای چالان سسٹم کے آغاز کے لیے سیف سٹی کا انتظار نہیں کیا، ٹیکنالوجی کے ساتھ ہی آگے بڑھیں گے، واپس پرانی طرز پر نہیں جائیں گے، اے آئی بیسڈ سگنلز لگاتے ہیں تو اس کی بھاری قیمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ اچھی سروسز دیتے رہیں، انکروچمنٹ کے خاتمے سے متعلق بڑا پلان بنا رہے ہیں۔




