آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ، غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج آنا شروع

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ، غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج آنا شروع

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہوگئے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کانٹے کا مقابلہ دیکھا جارہا ہے۔ 

پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 3 اضلاع میر پور، کوٹلی اور بھمبھر کے 13 حلقوں کے ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ 

ایل اے 1 میرپور 1: 

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 1 میرپور 1 کے 139 پولنگ اسٹیشنز میں سے 17 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے اظہر صادق 1692 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد افسر شاہد 1482 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایل اے 2 میرپور 2: 

ایل اے 2 میرپور 2 کے 149 پولنگ اسٹیشنز میں سے 34 کا غیر حتمی اور غیرسر کاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے قاسم مجید 3103 ووٹ لے کر آگے جبکہ اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری 2409 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 3 میرپور 3:

ایل اے 3 میرپور 3 کے 161 پولنگ اسٹیشنز میں سے 18 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے چوہدری محمد سعید 2265 ووٹ لے پہلے نمبر پر جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسر سلطان 1470 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایل اے 4 میرپور 4:

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 4 میرپور 4 کے 162 پولنگ اسٹیشنز میں سے 2 کا نتیجہ آگیا جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار احمد 327 ووٹ لے کر آگے ہیں، اس نشست پر دوسری پوزیشن پیپلز پارٹی کے چوہدری صہیب ارشد کی ہے جنہوں نے اب تک 223 ووٹ لیے ہیں۔

ایل اے 5 بھمبر 1:

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1 کے 176 پولنگ اسٹیشنز میں سے 15 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے چوہدری پرویز اشرف 2310 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وقار احمد نور 1767 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایل اے 6 بھمبر 2:

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2 کے 195 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے علی شان چوہدری 1313 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رزاق 585 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایل اے 7 بھمبر 3:

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 کے 237 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق 5331 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آزاد امیدوار چوہدری انوار الحق 2598 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 8 کوٹلی 1: 

حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1 کے 155 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال ملک 1221 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد نواز خان 1174 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

ایل اے 9 کوٹلی 2:

حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 کے 178 پولنگ اسٹیشنز میں سے 1 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے عمیر نعیم 534 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی 25 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 10 کوٹلی 3:

حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 کے 169 پولنگ اسٹیشنز میں سے 12 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے فتح محمود الحسن 1649 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین 1330 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 11 کوٹلی 4:

قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4 کے 206 پولنگ اسٹیشنز میں سے 3 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد اخلاق 489 ووٹ لے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسلم ليگ (ن) کے محمد آصف 294 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 13 کوٹلی 6:

حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 کے 193 پولنگ اسٹیشنز میں سے 67 کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان 10 ہزار 389 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد ولید انقلابی 8 ہزار 785 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

بھمبر: پولنگ اسٹیشنز پر ہنگامہ آرائی کا دعویٰ

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے دعویٰ کیا کہ ایل اے 5 برنالہ کے پولنگ اسٹیشن نمبر 119، 120 اور 121 پر ہنگامہ آرائی ہوئی، ہے جس کے باعث پولنگ متاثر ہوئی۔

ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی آمد کے بعد پولنگ دوبارہ شروع ہوئی تاہم عمل سست روی کا شکار رہا۔

بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیا جائے: راجہ پرویز اشرف

راجہ پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گل پور، تھروچی اور مہاجر کیمپ سمیت حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری تعینات کی جائے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے تمام شکایات کا فوری اور غیرجانبدارانہ نوٹس لینے اور آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے لانگ مارچ کی کال مسترد کر دی

آئی جی پولیس آزاد کشمیر کے ترجمان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں پولنگ پُرامن انداز میں جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے کالعدم کمیٹی کے لانگ مارچ کی کال مسترد کرتے ہوئے انتشار کے بجائے حقِ رائے دہی کے استعمال کو ترجیح دی اور صبح 8 بجے سے ہی ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے کہا کہ آزاد کشمیر کے تمام عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے انتخابی عمل کو پُرامن بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی کارکنوں سمیت کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، استحکامِ پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 296 امیدوار میدان میں ہیں۔

13 حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ 1 ہزار 439 ہے، جن میں مرد ووٹرز 7 لاکھ 25 ہزار 118 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 6 لاکھ 75 ہزار 628 ہے۔

میرپور ڈویژن میں 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

ضلع میر پور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1107 اور ضلع بھمبھر کے 3 حلقوں میں 608 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

عوام بلا خوف ووٹ ڈالنے کیلئے نکلیں: کمشنر میرپور

کمشنر میرپور راجہ طاہر ممتاز اور ڈی آئی جی کامران علی نے حلقہ ایل اے 3 کے وارڈ 16/17 کا دورہ کیا اور انتخابی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر میر پور راجہ طاہر ممتاز نے کہا کہ تینوں اضلاع میں صبح 8 بجے سے پرامن پولنگ کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں، انتظامیہ کی جانب سے انہیں پُرامن ماحول فراہم کیا جائے گا۔

سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات بھی کیے گئے ہیں، چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) مصطفیٰ مغل کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔

چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر خوش حال خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتشاری ٹولوں کو مسترد کر کے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، پُرامن انتخابات کے لیے تمام ریاستی ادارے تیار ہیں، انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا امن خراب کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں