انڈس واٹر ٹریٹی پاکستان نے عملاً غیرموثر بنادیا تھا، امریکہ میں بھارتی سفیر
لاہور(خالدمحمودخالد) امریکہ میں بھارت کے سفیر ونے موہن کواترا نے امریکی جریدے نیوز ویک میں شائع ہونے والے اپنے تفصیلی مضمون میں انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے بھارت کے مؤقف کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ بھارت نے نہیں بلکہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگوں، سرحد پار دہشت گردی اور مسلسل رکاوٹوں کے ذریعے عملاً غیر مؤثر بنا دیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ بھارت نے صرف اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدے کو معطل کیا ہے۔ اپنے مضمون “A Treaty Pakistan Destroyed Long Before India Set It Aside” میں ونے موہن کواترا نے کہا کہ اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، کے بعد بھارت نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت مکمل، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی طور پر ختم نہیں کرتا، اس وقت تک انڈس واٹر ٹریٹی معطل رہے گی۔بھارتی سفیر نے لکھا کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت دریاؤں کی تقسیم اس انداز میں کی گئی کہ مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بھارت کے حصے میں آیا، جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا تقریباً 80 فیصد پانی پاکستان کو دیا گیا۔




