پیپلز پارٹی نے ایکشن کمیٹی کے افراد کیساتھ مل کر مظفرآباد میں ہنگامہ کروایا: رانا ثناء کا الزام

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے افراد کے ساتھ مل کر مظفرآباد میں ہنگامہ کروایا۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ کا کہنا تھا کہ ہنگامہ اس لیے کروایا تاکہ کشیدگی ہو اور اس سے شہر میں خوف وہراس پھیلے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے تھے کہ ٹرن آؤٹ کم ہو اور اگر شہر میں ٹرن آؤٹ زیادہ ہوتا تو ہمارے امیدوار کا فائدہ تھا اور ہمارے امیدوار کو 4 سے 5 ہزار ووٹ زیادہ مل سکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے ٹائروں کو آگ لگائی اور جب پولیس گئی تو پولیس پر فائر کیا گیا، جب کراس فائرنگ ہوئی تو اس سے نقصان ہوا اور شہر میں کم ووٹ ڈالے گئے۔
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ شہر میں ہمارے امیدوار نے 2800 ووٹ سے سیٹ ہاری ہے، یہ ہماری جیتی ہوئی نشست تھی، ہمارے ساتھ اپ سیٹ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ الیکشن کے مطالبے کی کیا اہمیت ہے، لاکھوں لوگوں نے حق رائے دہی استعمال کیا، ایکشن کمیٹی نے اپنے طرف سے انتخابات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ جب ایک ہی جماعت کی حکومت ہوگی تو وہ بہتر طریقے سے مسائل کا حل نکالے گی۔ ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ مہاجر نشستیں لے کر حکومت بنا لیتے ہیں۔
رانا ثناءاللّٰہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی حدود میں 33 میں سے 20 پر انتخابات ہوئے ہیں جن میں سے 13 نشستوں پر ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ مہاجر نشستوں پر ہم اس لیے آگے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے مہم میں حصہ ہی نہیں لیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پونچھ میں 10 میں سے 6 نشستیں ہم جیتیں گے۔ غیب کا علم اللّٰہ جانتا ہے لیکن وزیراعظم فیصل راٹھور کی نشست ہم جیت رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور کا کہنا تھا کہ چوہدری لطیف اکبر ہارا ہوا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے اس نشست پر پروپیگنڈا کیا، ہماری اطلاع کے مطابق ایک بندہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کرگیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کا ایم این اے سندھ پولیس کے ساتھ اسکواڈ کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر جاتا رہا۔ پیپلز پارٹی کا ایم این اے پولنگ اسٹیشن جاکر فائرنگ کرتا رہا تاکہ خوف و ہراس پھیلے۔




