میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا آغاز کردیا، کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے گھر والوں سے تعزیت کی، کیس کی تحقیقات میں نقائص اور پولیس کی غفلت کا جائزہ لینے اور کسی دباؤ کے بغیر کام کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، کمیشن کی مدت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، کمیشن میں جو ہوگا سب کے سامنے ہوگا۔
میر رضا کے والد نے تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، وکیل جبران ناصر نے پولیس تحقیقات میں غفلت ،نقائص اور لاپرواہی کی نشاندہی کی۔
جسٹس عمر سیال نے جائے وقوع پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ کو نوٹس جاری کردیے، لاش دیکھنے والے نرسری کے دو ملازمین بھی طلب کرلیے گئے۔
کمیشن نے سندھ حکومت کو گواہان کے بیانات، ڈاکٹرز اور پولیس افسران کی فہرست سمیت تمام دستاویزات کل تک پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کارروائی یکم ستمبر تک ملتوی کردی۔
بعد ازاں میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن نے وضاحت کردی ہے کہ کمیشن کا کام انویسٹی گیشن نہیں فیکٹ فائنڈنگ ہے، کمیشن تفتیشی ٹیم کے کام کا جائزہ لے گا۔
جبران ناصر نے کہا کہ 30 دن گزر جانے کے باوجود پولیس ملزمان کا تعاقب نہیں کر سکی، اب گواہوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ تم رضا کو کامیاب سمجھتے ہو یا ناکام تھا، کمیشن سے درخواست کریں گے کیس اور شواہد خراب کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے، پولیس جیو فینسنگ،سی ڈی آراور دیگر دستاویزات دے دیں تو ہم بتا دیں گے ہمیں کس پر شک ہے۔
خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں کی گئی تھی۔
پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور میر رضا علی کے والد، دونوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کردی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔




