صوبائی حکومتیں بادشاہتوں سے بھی بدتر انداز میں چل رہی ہیں: شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی—فائل فوٹو
شاہد خاقان عباسی—فائل فوٹو

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں بادشاہتوں سے بھی بدتر انداز میں چل رہی ہیں تاہم نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔

لاہور میں نئے صوبوں کی تشکیل پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا جس میں سابق وزیرِ اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی نظام ہوتا تو ناکام ہوتا، نظام تھا ہی نہیں، جب تک آئین پر عمل نہیں ہوگا، قانون کی حکمرانی نہیں آئے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب کا نعرہ صرف سیاستدانوں کو پکڑنے تک محدود ہوگیا، ذمے داری سب کی ہے لیکن ذمے داری تلاش کرنے کی کسی کی ذمے داری نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ پوٹھوہار، ہزارہ، کراچی، جنوبی پنجاب اور بہاولپور میں نئے صوبوں کے مطالبات ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ بادشاہ بھی مشاورت کرتے تھے، ہمارے صوبے ڈائریکٹو پر چلتے ہیں، وزیرِ اعلیٰ کی زبان سے نکلنے والا لفظ ڈائریکٹو بن جاتا ہے اور پوری بیوروکریسی وزیرِ اعلیٰ کے ڈائریکٹو پر عمل شروع کر دیتی ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes
September 2026
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  

اپنا تبصرہ بھیجیں