میر رضا کیس، وزیرِ داخلہ سندھ کی جوڈیشل کمیشن کے روبرو معذرت
میر رضا کیس میں وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو معذرت کر لی۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ میر رضا کے اہلِ خانہ کا اعتماد بہت ہی کم ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگ پر پیڑول چھڑکنے کا کام کیا ہے، ان کا رویہ تضحیک آمیز تھا۔
انہوں نے وزیرِ داخلہ سندھ سے کہا کہ آپ آئے خوشی ہوئی، آپ کو بلانے کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے، آپ بتائیں سندھ حکومت کا وہی ویژن ہے؟ْ
وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے جواب دیا کہ ٹی او آر میں واضح ہے کہ کمیشن کسی کو بھی طلب کر سکتا ہے، ہم کمیشن کی کارروائی میں مداخلت نہیں چاہتے، کمیشن جس طرح کارروائی چلانا چاہے چلائے۔
انہوں نے کہا کہ فیملی کو جس چیز کی ضرورت ہو گی ہم فراہم کریں گے، کمیشن کو جن شواہد کی ضرورت ہو گی ہم دیں گے، محکمۂ داخلہ کے نمائندے معاونت کے لیے موجود ہیں۔
دریں اثناء کمیشن نے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو جاری شوکاز کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں 15 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ آئندہ ڈاکٹر سمیعہ کا بیان بھی ریکارڈ ہو گا۔
کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، ڈاکٹر سمیعہ اور پروفیسر نسیم کو 14 ستمبر کو طلب کر لیا۔




