جائیداد منتقل نہ ہونے پر بھی بیوی کا حقِ مہر ختم نہیں ہوگا، سپریم کورٹ

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

سپریم کورٹ نے حقِ مہر اور نکاح نامے سے متعلق فیصلے میں کہا کہ جائیداد منتقل نہ ہونے پر بھی بیوی کا حقِ مہر ختم نہیں ہوگا۔ 

سپریم کورٹ کے مطابق بطور مہر طے جائیداد منتقل نہ ہوسکے تو شوہر ذمہ داری سے بری نہیں ہوگا، شوہر کو جائیداد کی طے شدہ قیمت بیوی کو ادا کرنا ہوگی۔

سپریم کورٹ کے مطابق نکاح نامے میں قیمت درج نہ ہو تو عدالت مارکیٹ ویلیو کا تعین کرسکتی ہے، نکاح محض عام سول یا تجارتی معاہدہ نہیں، اپنی نوعیت کا منفرد قانونی ادارہ ہے۔ 

سپریم کورٹ کے مطابق حقِ مہر بیوی کی قیمت یا شادی کا تجارتی معاوضہ نہیں، حقِ مہر بیوی کا لازمی، خصوصی اور قابلِ نفاذ مالی حق ہے۔ 

سپریم کورٹ کے مطابق نکاح ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے، نکاح نامہ اس کا سرکاری ریکارڈ ہے، نکاح نامہ شادی کے معاہدے کا بنیادی دستاویزی ثبوت ہے۔ 

سپریم کورٹ کے مطابق نکاح نامے کا قانونی مفروضہ حتمی نہیں، مضبوط شواہد سے رد کیا جاسکتا ہے، مبہم یا متضاد اندراجات کی صورت میں عدالت دیگر قابلِ قبول شواہد دیکھ سکتی ہے۔ 

سپریم کورٹ کے مطابق نکاح نامے کے کالم 13 سے 16 کو باہم مربوط انداز میں پڑھا جائے گا، کالم 13 میں حقِ مہر نقد یا جائیداد دونوں کی صورت میں درج ہوسکتا ہے۔ کالم 14 مہر کی اقسام اور کالم 15 ادا شدہ مہر سے متعلق ہے، کالم 16 میں حقِ مہر کے عوض دی گئی جائیداد کی تفصیل درج ہوگی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے فیصلے سے اتفاق کیا اور الگ اضافی نوٹ تحریر کیا۔ جس میں لکھا کہ فریقین کی نیت کا تعین بنیادی طور پر نکاح نامے سے کیا جائے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ بعد کے زبانی دعووں کو نکاح نامے پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے، نکاح نامہ لازمی قانونی فارم ہے، ہر کالم کا الگ مقصد ہے، نکاح رجسٹرار تمام متعلقہ کالم احتیاط سے مکمل کریں۔

اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ جائیداد بطور مہر ہو تو مکمل تفصیل اور قیمت درج کی جائے، اہم شرائط دستخط سے پہلے فریقین کو پڑھ کر سنائی جائیں، کسی کالم کو بلاوجہ خالی نہ چھوڑا جائے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا انفرادی مقدمات میرٹ پر الگ بینچز سنیں گے۔  جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کہا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں