پولیس کی پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا، شفیع جان

پولیس کی پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا، شفیع جان

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ غیر تسلی بخش کارکردگی پر صوبائی حکومت کو آئی جی کی خدمات واپس لینے کا اختیار ہوگا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں شفیع جان نے کہا کہ نئے پولیس قانون کا مقصد پولیس کو عوام کے سامنے مزید جوابدہ بنانا ہے، پولیس کے تفتیشی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا، پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ وزیراعلیٰ اور آپریشنز بورڈ کے سربراہ آئی جی ہوں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام میں مزید جوابدہی لائی جائے گی، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی و تبادلے رولز آف بزنس 1985 کے تحت ہوں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کی ترقی، فاسٹ ٹریک پروموشن اور براہ راست بھرتی کے کوٹے میں توازن لایا جائے گا، نئے قانون سے پولیس افسران کے لیے ترقی اور کیریئر میں پیشرفت کے مواقع بڑھیں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ صوبائی پولیس افسر کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام متعارف کرایا جائے گا، غیر تسلی بخش کارکردگی پر صوبائی حکومت کو آئی جی کی خدمات واپس کرنے کا اختیار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سالانہ پولیسنگ پلان تیارکرکے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہوگا، نئے قانون میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کے قیام اور طریقہ کار کو واضح کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ تمام موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت ازسر نو تشکیل دی جائیں گی، کے پی کابینہ نے خیبر پختونخوا اسٹیمپ ترمیمی بل 2026ء کی بھی منظوری دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پشاور واٹر سپلائی اسکیم کے ان ٹیک اسٹرکچر اور ٹنل کی نظرثانی شدہ لاگت منظورکی گئی، چترال میں اسپورٹس کمپلیکسز کے لیے اراضی کے حصول کی بقیہ رقم جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں