آئی ایم ایف مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے پر بریفنگ

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) مشن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کے پہلے روز آئی ایم ایف مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔
آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام سے متعلق چوتھے جائزہ مذاکرات ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن سے ہوئے، ایف بی آر کی جانب سے کسٹم اور انکم ٹیکس کے حوالے سے مشن کو بریفنگ دی گئی، ایف بی آر کے کسٹم اور انکم ٹیکس کے پالیسی ونگز کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی، مذاکرات کے دوران سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکریٹری فنانس ڈویژن شریک ہوئے۔
مشن کو بتایا گیا کہ پاکستان سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق قانون پاس کر چکا ہے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ سول سرونٹس ایکٹ میں نئی دفعہ 15 اے کا اضافہ کیا گیا ہے، حکومت سرکاری ملازم کے مالی طرز عمل کو ریگولیٹ اور مانیٹر کر سکے گی، سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی، گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران اپنے اثاثے عام کرنے کے پابند ہوں گے۔




