گورنر راج کیلئے جن عناصر کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب پی ٹی آئی دے چکی ہے، اختیار ولی

وزیراعظم شہباز شریف کے کو آرڈینیٹر اختیار ولی کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے لیے جن عناصر کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب پی ٹی آئی دے چکی ہے، سہیل آفریدی ایک احتجاج نہیں کر سکے ہم ان سے خوف زدہ کیوں ہوں گے؟ خیبر پختونخوا میں وسط مدتی انتخابات کی طرف جانا پڑے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اگر پیسہ لگا رہی ہے تو وہ نظر بھی آنا چاہیے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جھوٹ بولا اور غلط بیانی کی ہے، اس سے کیا ہوگا؟
اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت فورسز کو مسلح کرتی تو ان کی شہادتیں نہ ہوتیں، خیبر پختونخوا حکومت کا یہ چورن اب نہیں بک رہا کہ وفاق پیسہ نہیں دے رہا۔
پروگرام میں شریک پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسمگلرز کے سہولت کار ہیں، اس کے بعد کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشت گردوں کا سہولت کار ہے، وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی کارکردگی ٹھیک نہیں، وفاقی حکومت اپنے اداؤں پر بھی غور کرے، شہباز شریف حکومت نے 50 ہزار ارب کا قرضہ لیا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا چاہتی ہے جس میں کے پی حکومت رکاوٹ ہے؟ خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کام کر رہی ہے، آئینی مشینری جب رک جاتی ہے تب گورنر راج کی بات ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کو ہٹانے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف ہے اس لیے خیبر پختونخوا حکومت کو ہٹانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کون وزیر اعلیٰ چاہے گا کہ اس کے دور میں زیادہ دہشت گردی ہو؟ وفاقی حکومت کی اپنی کارکردگی صفر ہے۔




