حکومت 72 گھنٹوں میں فیصلے کرنے پر زور دیتی رہی: عامر ڈوگر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ حکومت مشاورت کی بجائے 72 گھنٹوں میں فیصلے کرنے پر زور دیتی رہی، 3 بنیادی نکات پر ڈیڈ لاک کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔
اپنے بیان میں عامر ڈوگر نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو علاج میں شامل کرنے پر رضا مند نہیں ہوئی۔ کے پی میں یکطرفہ فیصلوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت متفقہ حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بےنتیجہ ختم ہوگئے، تحریک انصاف نے آج لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ مذاکرات کا نیا راؤنڈ بھی طے نہ کیا جا سکا۔
حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات رات تقریباً ڈھائی بجے تک چلے مگر مسودے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔




