وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی الیکشن کمیشن کے نوٹسز کیخلاف درخواست خارج

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹسز کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔ 

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشد علی نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ 

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ الیکشن کمیشن آئینی و قانونی اختیارات کے تحت انتخابی بےضابطگیوں کی تحقیقات کرسکتا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اپنی کارروائی کا طریقہ کار خود طے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضات کو مرکزی معاملے کے ساتھ سننا غیرقانونی نہیں۔

عدالت عالیہ نے فیصلے میں کہا کہ ایک ہی عمل پر ایک سے زائد قانونی دفعات لاگو ہونے سے الیکشن کمیشن کی کارروائی غیرقانونی نہیں ہوتی۔ درخواستگزار الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں واضح قانونی خامی ثابت نہیں کرسکا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئینی مداخلت کےلیے اختیار کا واضح فقدان اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی یا بدنیتی ثابت ہونا ضروری ہے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کی دفعہ 234 کے تحت کارروائی اور الیکشن کمیشن کی کارروائی الگ قانونی معاملات ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق ڈی ایم او اور الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نوٹس جاری کیا۔ وکیل نے بتایا کہ ڈی ایم او اور الیکشن کمیشن ایک ساتھ کارروائی نہیں کر سکتا۔ ڈی ایم او کی کارروائی سے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں آئینی مداخلت کی کوئی بنیاد ثابت نہیں ہوئی، عدالت درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کرتی ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes
October 2026
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

اپنا تبصرہ بھیجیں