پیٹرولیم لیوی بھتہ ختم نہ ہوا تو وزیرِ اعظم سے ملاقات نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمٰن

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی بھتے کا عالمی مالیاتی فنڈ سے کوئی تعلق نہیں، حکومت اسے ختم کرے، بصورتِ دیگر ہم وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات نہیں کریں گے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر وزراء کہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جا سکتی تو پھر وزیرِ اعظم شہباز شریف ملاقات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ جب ملاقات کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں تو وزیرِاعظم سے ملنے کا کیا فائدہ؟
انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی بھتے کے خلاف کل اوکاڑہ میں جلسہ کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور حکومتی اقدامات کے باعث غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، گزشتہ 6 برس کے دوران چاروں صوبوں میں پنجاب میں غربت سب سے زیادہ بڑھی، ترقی کے اشتہارات دیے جاتے ہیں لیکن پنجاب میں غربت کی شرح 41 فیصد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 52 فیصد بچے امتحانات میں ناکام ہوئے جبکہ صوبائی حکومت نے 11 ہزار اسکول نجی شعبے کے حوالے کر دیے۔
کراچی کی سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہیں، کراچی میں نشستوں پر قبضہ کیا گیا اور مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر 32 افراد کو ساتھ ملا لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں قابلِ قبول نہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ احتجاج نہ کرنے سے جماعتِ اسلامی کمزور ہو گئی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
بانیٔ تحریکِ انصاف کی صحت اور رہائی کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر مسئلہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت اور انہیں اسپتال تک رسائی دینے کا ہے تو اسے حل کیا جائے، ان سمیت کسی کو بھی سیاسی قیدی نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کی قید خواتین کو فوری رہا کیا جائے، بانی جن الزامات کے تحت قید ہیں، اگر انہی الزامات کو بنیاد بنایا جائے تو پھر تمام سیاست دانوں کو بھی جیل میں ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ مکہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ایران کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔




