خودکشی کرنیوالی طالبہ لائبہ کے مقدمے کی بند ایف آئی آر دوبارہ کھول دی گئی

---تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
—تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش آگے بڑھانے کے لیے مقدمے کی بند ایف آئی آر دوبارہ کھول دی۔ 

مقدمہ لائبہ کے والد کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے، پولیس نے والد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا۔

لائبہ کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ نعمان نامی شخص نے ان کی بیٹی کو تعلیمی ویزے پر امریکا بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے اور بعد ازاں رابطہ منقطع کر لیا۔

لائبہ کے والد کے مطابق ان کی بیٹی کی بلیو ایریا میں نعمان نامی ایجنٹ سے ملاقات ہوئی تھی جس نے خود کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ افسر ظاہر کیا اور طالبہ کو تعلیمی ویزے پر امریکا بھجوانے کا جھانسہ دیا، ملزم نے اس مقصد کے لیے 93 لاکھ روپے طے کیے تھے۔

والد کا کہنا ہے کہ میں نے ملزم کو 21 لاکھ روپے جی 10 میں نقد ادا کیے جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ کے اکاؤنٹ سے نعمان کو منتقل کیے گئے، ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے اکاؤنٹ میں 20 ہزار ڈالر بھجوانے کی جعلی رسیدیں بھی فراہم کیں۔

والد کے بیان کے مطابق عائزہ نامی لڑکی بھی مبینہ فراڈ میں ملوث تھی جو لائبہ سے رابطہ کر کے رقم کا مطالبہ کرتی تھی، بعد ازاں ملزم نے ان کے فون سننا تک چھوڑ دیے۔

والد کا مزید کہنا ہے کہ میری بیٹی مسلسل 5 سے 6 دن تک اسی ذہنی پریشانی میں مبتلا رہی۔

پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں