قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے حنا جاوید قتل کی دوبارہ تفتیش کی ہدایت کردی

اسکرین گریب/ جیو نیوز
اسکرین گریب/ جیو نیوز 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حنا جاوید قتل کی دوبارہ تفتیش کی ہدایت کردی۔

اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ان کی درخواست ہے کہ یہ ایک مختلف کیس ہے، کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام سے پہلے دوبارہ تفتیش کا آپشن موجود ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کیس میں پنجاب کے اعلیٰ اور قابل افسر کو لگا کر دوبارہ تفتیش کروا لیتے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے مخالف نہیں لیکن قانونی آپشن موجود ہے۔

رکن کمیٹی چوہدری نصیر نے کہا کہ اس کیس میں 2 بار انکوائری تو ہوگئی ہے، اس کیس میں پہلے ملزم فیصل کو تو چھوڑ دیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دوبارہ انکوائری کروا لیتے ہیں، ملزم فیصل کو معصوم ڈکلیئر نہیں کریں، جس پر محسن نقوی بولے کہ دونوں سائیڈ کو ریلیف مل جائے گا، بس دوبارہ انکوائری کروالیں۔

خیال رہے کہ حنا جاوید کو 22 اگست 2026 کو تشدد کرکے قتل کیا گیا تھا، اس کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی، شوہر نے کئی بار مارا پیٹا مگر حنا اس ڈر سے خاموش رہی کہ بستر مرگ پر پڑے اس کے والدین کو دکھ نہ پہنچے۔ یہی خاموشی شاید اس کے شوہر کو مزید سفاک بناتی چلی گئی اور پھر اس نے حنا کا بہیمانہ قتل کر دیا۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق شوہر فیصل اصغر نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر حنا کو قتل کیا، حنا جاوید کی لاش گھر کے واش روم میں شاور سے پھندے کے ساتھ لٹکی ملی، مقتولہ کے ہاتھ بندھے ہوئے اور منہ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھا۔

قتل کے الزام میں شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم گرفتار ہیں، سسر بھی نامزد ہے، ملزم فیصل اصغر کو جنسی ہراسانی کے الزام میں اسلام آباد کی 2 یونیورسٹیز سے برطرف کیا جا چکا ہے، مقتولہ کے شوہر کی یہ دوسری شادی تھی، پہلی بیوی نے مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔

28 اگست کو حنا جاوید قتل کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا گیا تھا، پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ پنجاب نے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی کو  کیس کی تفتیش سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔



50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں