وادیٔ تیراہ میں آپریشن مفروضہ ہے: وفاقی حکومت

وادیٔ تیراہ میں آپریشن مفروضہ ہے: وفاقی حکومت
—جیو نیوز گریب
—جیو نیوز گریب

وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ میں آپریشن کو مفروضہ قرار دے دیا اور صوبائی حکومت پر معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگا دیا۔

اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ وادیٔ تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ برف باری میں ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں ہے جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، وادیٔ تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں، کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، نقل مکانی معمول کی بات ہے، نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، وہ واپس لے لے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے میں طے پایا، نوٹیفکیشن شائع ہوا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وادیٔ تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 سو لوگ موجود ہیں، جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں، ہمیں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وادیٔ تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، 17 ہزار فٹ کی اونچائی ہے اور سخت سردی ہوتی ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے جو معمول کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں مراکزِ صحت، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آ رہی۔

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وادیٔ تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، وادیٔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادیٔ تیراہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ 11، 25 اور 26 دسمبر کو مشران کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، ان مشران نے پھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سے ملاقات کی۔



50% LikesVS
50% Dislikes
February 2026
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

اپنا تبصرہ بھیجیں