سیکریٹری اطلاعات جی ڈی اے
پاکستان مسلم لیگ (ف) سندھ کے سیکریٹری جنرل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سیکریٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے کہا ہے کہ انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے۔ اصل جرائم پیشہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے بے گناہ نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے جعلی انتخابات کے خلاف فنکشنل ہاؤس کراچی میں ہماری پریس کانفرنس سے قبل ہی مقامی انتظامیہ نے دھاوا بول دیا۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے جی ڈی اے کے تحت سندھ بھر میں پرامن یوم احتجاج منایا گیا جو مکمل طور پر کامیاب رہا، کارکنان کی کثیر تعداد نے ضلعی پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کیا، دو درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا جسکی پر زور مزمت کرتے ہیں۔
سیکریٹری اطلاعات جی ڈی اے نے ملکی مسائل کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت نازک اور سنگین دور سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے حراست میں لیے گئے کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
سردار عبدالرحیم نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں معصوم اور بے گناہ افراد شہید اور زخمی ہوئے جس پر ہم دلی ہمدردی اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔
سردار عبدالرحیم نے کراچی کے گل پلازہ سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دلخراش واقعہ سندھ میں بدانتظامی، ناقص منصوبہ بندی اور حکومتی نااہلی کی کھلی مثال ہے۔ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبے میں نہ گڈ گورننس ہے اور نہ ہی حکومت کی کہیں رٹ نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2024ء کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں، جن میں بدترین دھاندلی کے ذریعے جیتنے والے امیدواروں کو ہرایا گیا اور ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔
سردار عبدالرحیم نے واضح کیا کہ جی ڈی اے کے تین صوبائی اسمبلی کے جیتے ہوئے ممبران نے نہ آج تک حلف اٹھایا ہے اور نہ ہی اٹھائیں گے، کیونکہ یہ اسمبلیاں عوامی مینڈیٹ کی عکاس نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیر پگارا کی صدارت میں جی ڈی اے کی کور کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا اس فیصلے کے تحت کراچی سے لے کر کشمور تک عوام نے بھرپور، منظم اور پُرامن احتجاج میں شرکت کی۔
سردار عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ اصل جرائم پیشہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لانے کے بجائے بے گناہ نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
سیکریٹری اطلاعات جی ڈی اے کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے نمائندوں کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔



