ویلی ریلوے منصوبہ، پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ

خیبر پختون خوا حکومت نے وادیٔ پشاور میں وفاق کے تعاون سے ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پشاور میں چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا نے سیکریٹری اور چیئرمین ریلویز کو خط ارسال کیا ہے، مجوزہ ٹرین منصوبے کا نام ’پشاور ویلی ریلوے‘ رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت ریلویز انفرااسٹرکچر پر ریل کار اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس چلانے پر کام کر رہی ہے اور منصوبے کی پیشگی فزیبلٹی اسٹڈی پر گراؤنڈ ورک شروع کر دیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں 62 کلومیٹر پر مشتمل پشاور-نوشہرہ-جہانگیرہ ریلوے سکیشن پر کام ہو گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 65 کلومیٹر نوشہرہ-مردان-درگئی ریلوے سیکشن پرکام کیا جائے گا، اس کے علاوہ 27 کلو میٹر مردان-چارسدہ سیکشن اور 18 کلو میٹر پشاور-جمرود سیکشن اور بعد میں 60 کلو میٹر پر مشتمل کوہاٹ-جنڈ ریلوے سیکشن پر بھی کام کیا جائے گا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت اور ریلویز کے اجلاس میں تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا تھا جس میں مضافاتی ریل سروس کو اوپن ایکسیس فریم ورک کے تحت مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔
خط میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان ریلویز ورکنگ گروپ میں نمائندگی کے لیے تکنیکی ٹیم نامزد کرے۔
خیبر پختون خوا کے سیکریٹری محکمۂ ٹرانسپورٹ محمد زبیر نے ’جیو نیوز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ منصوبہ گیم چینجر ہو گا، پہلی مرتبہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں مل کر کام کریں گی، اس منصوبے سے کے پی حکومت کو انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں بچت ہو گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ منصوبے سے ریلوے کا بزنس بڑھے گا اور آمدن بھی ہو گی۔




