مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگر ملز کیس وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا۔
اپیل ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔
نیب نے درخواست میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کے خلاف انکوائری ختم کرنے کے چیئرمین نیب کے اختیار میں مداخلت کی، لاہور ہائی کورٹ کا 4 فروری 2026ء کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
مزید کہا گیا کہ چوہدری شوگر ملز کیس نجی نوعیت کا ہے، کیس میں سرکاری خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تفتیش میں مریم نواز کے خلاف کرپشن یا کرپٹ پریکٹس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نیب ترامیم کے سیکشن 31 بی (1) کی غلط تشریح کی، چیئرمین نیب کے پاس ریفرنس دائر کرنے سے پہلے کسی بھی کارروائی کو ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار ہے، لاہور ہائی کورٹ نے انکوائری ختم کرنے کو احتساب عدالت کی منظوری سے مشروط کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔
کہا گیا کہ عدالت نے قانون میں اپنی طرف سے الفاظ شامل کر کے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی، عدالتی منظوری کی شرط پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے، پارلیمنٹ عدالتی منظوری چاہتی تو وہ واضح طور پر لکھ دیتی۔
درخواست میں کہا گیا کہ 3 اپریل 2024ء کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سیکشن 31 بی ون کے تحت کارروائی واپس لی، کارروائی ختم ہونے پر مریم نواز نے لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی، درخواست میں 7 کروڑ روپے کی واپسی کا تقاضا کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ احتساب عدالت لاہور ایک ماہ میں اس پر فیصلہ کرے۔
نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے 4 فروری 2026ء کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت سے رجوع کیا، نیب انکوائری اسٹیج پر کیس واپس لے تو احتساب عدالت کے پاس جوڈیشل اختیار نہیں، جب قانون میں عدالتی منظوری کا تقاضا نہ ہو تو اسے عدالتی فیصلے کے ذریعے شامل نہیں کیا جا سکتا۔
نیب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کیے بغیر ہی فیصلہ جاری کر دیا، جب مقدمہ واپس لینے کی منظوری چیئرمین نیب نے دے دی تو لاہور ہائی کورٹ کو قانون کی تشریح کا اختیار ہی نہیں، لاہور ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا جو اس کا دائرہ اختیار ہی نہیں تھا، لاہور ہائی کورٹ کا 4 فروری 2026ء کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ چوہدری شوگر ملز انکوائری میں مریم نواز پر منی لانڈرنگ اور مشکوک ٹرانزیکشنز کا الزام تھا، نیب نے کیس تفتیش کے بعد نجی نوعیت کا قرار دے کر ختم کر دیا تھا، انکوائری ختم ہونے کے بعد مریم نواز نے زر ضمانت 7 کروڑ کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ نیب کی انکوائری ختم کرنے کی رپورٹ احتساب عدالت میں پیش کی جائے، حتمی منظوری اور رقم کی واپسی کا فیصلہ ایک ماہ میں احتساب عدالت کرے گی۔




