مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں: خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال غیر یقینی ہے، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔
ایم کیو ایم کی قیادت نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خطے کی بدلتی صورتحال، آئینی ترمیم اور ملکی سیاسی و معاشی چیلنجز پر تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان جو ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، ایم کیو ایم اس کی حمایت کرتی ہے جبکہ افواجِ پاکستان نے اس حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔
اُنہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ کراچی میں مصنوعی اکثریت کے ذریعے اختیارات اور وسائل کی منتقلی روکی جا رہی ہے، مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم فوری لائی جائے اور اگر یہ ترمیم پیش کی گئی تو ایم کیو ایم حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اِن کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات بھی زیر غور آسکتے ہیں اور عوام کو فیصلوں میں اختیار دینا ہوگا۔
دوسری جانب سینئر رہنما فاروق ستار نے مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کا انحصار کراچی کی مضبوطی پر ہے۔
انہوں نے کراچی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور سیاسی مخالفین کو رویہ تبدیل کرنے کی ’آخری وارننگ‘ دیتے ہوئے قومی مفاد میں برداشت اور کشادگی اپنانے پر زور دیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما و وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے، موجودہ نظام میں اختیارات صرف چار وزرائے اعلیٰ کے پاس ہیں جبکہ پاکستان کے 400 شہروں کو اس ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں دنیا نے دیکھا کہ سول انتظامیہ فوج کے ساتھ متحرک ہوتی ہے لہٰذا مضبوط مقامی حکومتیں ناگزیر ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ عوام کو اپنی تقدیر کے فیصلوں کا حق دیا جائے اور ملک میں فوری طور پر بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے کیونکہ موجودہ حالات میں آئینی اصلاحات کی ضرورت ماضی سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔




